اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حوثی مجاہدین کے قائد "عبدالملك الحوثي" کے دفتر نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ سعودی عرب نے "شدا"، "حصامہ" اور "ملاحيظ" کے علاقوں کو میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔
دوسری طرف سے سعودی نائب وزیر دفاع "خالد بن سلطان" نے کہا: "ہم نے جبل الدخان کا علاقہ شیعہ مجاہدین سے خالی کرایا ہے لیکن اس کاروائی میں تین سعودی فوجی مارے گئے ہیں اور چار لاپتہ ہیں"۔
دریں اثناء شیعہ مجاہدین نے کہا ہے کہ جبل الدخان بدستور ان کے قبضے میں ہے اور سعودی افواج شیعہ آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
دوسری طرف سے غزہ کے مسلمانوں کے دشمن نمبر ایک اور مصر کے تاحیات صدر "حسني مبارك"، نے ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کو فون کرکے سعودی عرب پر حوثی مجاہدین کے مبینہ حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔
سعودی شاہ نے کہا کہ سعودی عرب طاقتور ہے اور ہر قسم کی جارحیت کا سد باب کرسکتا ہے۔
حال ہی میں غزہ میں صہیونیوں کے جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ پر غور کو چھ مہینوں تک مؤخر کرنے کی درخواست دینے والی فلسطینی اتھارٹی کے غیر قانونی بہائی صدر "ابومازن محمود عباس" نے یمنی سرزمین پر سعودی حملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سعودی عرب کے "حق دفاع" کو تسلیم کرتے ہوئے یمن کے اقتدار اعلی کی بھی حمایت کرتے ہیں اور "سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے" کی مذمت کرتے ہیں۔